بدھ، 7 نومبر، 2018

ہمارا معاشرہ اور ہماری تہذیب
یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب کراچی سب کا تھا، نا کوئی سندھی نا مہاجر، پٹھان، پنجابی  غرض کہ سب پاکستانی ہوا کرتے تھے اس شہر کراچی نے سب کو اپنی پناہ میں لیا ہوا تھا اس بات سے قطع نظر کے کسی کی قومیت کیا ہے، 
اور وہ مثال کہ 

شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے عروس البلاد کراچی پر پوری اترتی

میری جنم بھومی بھی یہی شہر ہے اور میں بچپن سے اس کے عشق میں گرفتار ہوں، دنیا کہ کسی کونے میں بھی چلا جائوں کراچی یاد آتا ہے، اور اس شہر کو سب سے خاص جو بات بناتی تھی وہ اس شہر کے لوگ تھے جن کی تمیز اور تہذیب یہاں کی ثقافت مانی جاتی تھی بس میں سفر کرنے والے جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ کراچی کی بسوں میں کوئی بھی بزرگ شہری کھڑا رہ کر سفر نہ کرپاتا اور جو نوجوان بسوں میں سوار ہوتے کسی بھی بزرگ شہری کی آمد پر اپنی نشست سے  کھڑے ہوجاتے اور انہیں پیش کردیتے، یہی نہیں بلکہ اسی شہر میں اساتذہ کرام کی اتنی عزت کی جاتی کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے نکل کر جو طلباء عملی زندگیوں میں کامیابی سے قدم رکھ دیتے وہ اسکے بعد بھی تاحیات اپنے اساتذہ کرام سے نہ صرف رابطے میں رہتے بلکہ زندگی بھر ان کے احسانات کا دم بھرتے رہتے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والدین نے میری تربیت کس محنت اور جانفشانی سے کی گو کہ میں ایک ادنا سا انسان ہوں لیکن مجھے میری تمیز اور تہذیب محفلوں میں ممتاز     بناتی ہےہے 


میرے والدین نے بچپن لڑکپن سے لیکر جوانی تک تقریبا میری تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی اور میں اس دور کا کوئی انوکھا لاڈلا نہیں تھا اس وقت کے تمام لوگ تھے ہی بڑے رکھ رکھائو والے جو اپنی اولاد کی تعلیم اور تربیت پر خاص توجہ دیتے اور اس ضمن میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر والدین جو کہ ناخواندہ ہوتے اس کے باوجود وہ اپنی اولاد کی تربیت ایسے ہی کیا کرتے، میرے نزدیک درسی تعلیم آپکو عملی زندگی میں کھڑے ہونے کے قابل تو بنادیتی ہے لیکن تمیز،  تہذیب اور شعور انسان اپنے والدین سے ہی سیکھتا ہے اور ماں ہی اس پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔




ہم اپنے بچوں کو اکثر و بیشتر کسی بھی ایسی جگہ لے جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں کا ماحول ان کے ننھے ذہنوں کے لئے سازگار نہ ہو جہاں ایسے بچے موجود ہوں جن کے لئے گالی گلوچ کرنا عام بات ہو اور اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں کرنے میں انہیں کسی قسم کی شرم محسوس نہ ہو، کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں پر پابندیاں عائد کردیتے ہیں کہ بیٹا فلاں کزن کے ساتھ نہ کھیلانا وہ بدتمیز ہے گالیاں بکتا ہے، والدین کی بات نہیں مانتا۔

موجودہ دور ترقی کے اعتبار سے پچھلے ادوار سے بہت زیادہ جدید ہے علمی میدان میں بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور عملی زندگی میں بھی، تمام والدین کی یہی خواہشات ہیں کہ ہمارے بچے اعلی تعلیم یافتہ بن جائیں اور اس تمام تر صورتحال میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے ایک ایسے اسکول کا انتخاب کریں جو شہر کا سب سے  بہترین اسکول ہو اور اس مد میں ہر انسان اپنی اسطاعت کے مطابق پیسہ خرچ کرتا ہے۔

لیکن ان تمام والدین کو یہ جان لینا چاہیئے کہ صرف اچھا اسکول اور پیسہ آپ کے بچوں کہ وہ سب کچھ نہیں دے سکتا جس کی آپ تمنا رکھتے ہیں، اسکی جیتی جاگتی مثال ہمارے معاشرے میں عام طور پر موجود ہے۔

اس حوالے سے آپ اپنے مشاہدے کی آنکھ کو وسیع کرکے با آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ جوکہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ان کا رویہ اپنے شاگردوں سے کیسا ہے اس ضمن میں کئی ویڈیوز روزانہ آپکی نظروں سے گزرتی ہونگی،

 ملک میں قانون سازی کرنے والے سیاستدانوں کے اخلاق، تمیز اور تہذیب تو آپ روزمرہ میں ٹیلی ویژن  اسکرینوں پر دیکھ ہی لیتے ہونگے اس حوالے سے حکام بالا سے عرض ہے کہ برائے مہربانی ان تمام پروگراموں پر جن میں سیاستدان شرکت کرتے ہوں کو شروع کرنے سے پہلے ایک پٹی چلادیا کریں کہ بچے نہ دیکھیں اس سے ان کی اخلاقیات پر فرق پڑ سکتا ہے۔



 اور ہمارے کئی علماء کرام بھی کسی حد تک اپنے آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، کبھی کبھی کوئی اشتعال انگیز بات بھی کرجاتے ہیں، باوجود اس کہ وہ جانتے ہیں کہ اس قسم کی گفتگوں سے ہمارے مریدین اور ہمارے پیچھے چلنے والوں پر کیا اثر پڑے گا۔
 


اور اس کے بعد عوام الناس  جس میں کم وبیش جتنے بھی خواتین و حضرات سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان کی اکژیت اعلی تعلیم یافتہ ہے اور باقی افراد بھی پڑھے لکھے ہیں لیکن بد تیمزی اور بد تہذیبی کی جو مثال آپ کو اس جگہ ملے گی وہ اور کہیں نہیں ،،، معذرت کیساتھ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے ایک دوسرے سے باتیں کرنے والے بلکل ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے وہ سوشل میڈیا کے کسی فورم پر نہیں بازار حسن کی کسی گلی میں ایک دوسرے پر آوازیں کس رہے ہوں،  کبھی کوئی کافر بن جاتا ہے کوئی کسی کی ماں پر سوال اٹھاتا ہے، کوئی کسی کی بہن کو بازار حسن میں بیٹھاتا ہے غرض کہ اس قسم کے کلمات ادا ہوتے ہیں جس کے بارے میں میری کچھ بھی لکھنے کی ہمت نہیں آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔

میری آپ تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ اسطرح کی گفتگوں سے اجتناب کریں، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں اور جہاں بھی اس قسم کی باتیں آپ کے سامنے آئیں ان پر گفتگوں کرنے سے گریز کریں، اپنے بچوں کے مستقبل کو تباہ مت کریں، اپنے بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کریں اور ان کے سامنے اس قسم کی گفتگوں سے اجتناب کریں ان کی اخلاقی اقدار مضبوط کریں اور ان کو اور اپنے آپ کو مندرجہ بالا قسم کے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھیں




1 تبصرہ:

  1. ماشاءاللہ بہت بہترین۔بہت اچھا لکھ رہے ہیں آپ اور آپ کی ہر ایک بات سے میں سو فیصد متفق ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں