منگل، 6 نومبر، 2018

نیا پاکستان اور بوجھ اٹھانے والے قلی

 نیا پاکستان اور بوجھ اٹھانے والے قلی



 صاحب سامان اٹھالوں ؟؟ کہاں جائیں گے آپ؟

کراچی کینٹ اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی آپکی نظر سبز رنگ کی وردیوں میں ملبوس قلیوں پر پڑتی ہے جوکہ اسٹیشن میں داخل ہونے والے ہر مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے لگ بھگ اسی طرح کے جملے استعمال کرتے ہیں،


 جون جولائی کی تپتی دوپہر ہو یا دسمبر جنوری کی سرد راتیں ان قلیوں کی زندگی میں موسم کوئی معنی نہیں رکھتا معنی رکھتی ہے تو صرف ان کی دیہاڑی, یہ قلی اسٹیشن میں داخل ہونے والے مسافروں کو اپنے تجربے سے شناخت کرتے ہوئے روزی کی آس میں ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں



تیس سالہ امان بھی روزی کمانے کی تلاش میں کراچی آیا اور کینٹ اسٹیشن کا ہی ہو کر رہ گیا، امان کا کہنا تھا کہ جہاں انسان کا دانہ پانی لکھا ہوتا ہے انسان اسی جگہ جا کر رزق کماتا ہے، دیہاڑی کی مد میں ملنے والی رقم نا کافی ہے گھر کچھ بھی نہیں بھیج پاتے اور اس پر مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے، امان نے بتایا کہ وہ کراجی جیسے شہر میں کرائے کا گھر نہیں لے سکتا ہاں رات گزارنے کے لئے کبھی اسٹیشن کی بینچیں اور کبھی منجی والے ہوٹل کی چارپائی ہی پر اکتفا کرتا ہے

کراچی کینٹ اسٹیشن پر کام کرنے والے اکثر قلیوں کی حالت ایسی ہی ہے اور اس مہنگائی کے دور میں مسافر یہی سوچتے ہیں کہ بجائے قلی کو سو یا ڈیڑھ سو روپے دینے اگر اس مہنگائی میں وہ خود ہی سامان اٹھا لیں تو کچھ پیسوں کی بچت ہو جائے گی، اور مسافروں کی یہ سوچ قلیوں کی دیہاڑی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے دور میں ریلوے سمیت دیگر ادارے سست یا تیز سہی بہرحال ترقی کی جانب گامزن ہیں لیکن ماضی سے لیکر اب تک اگر قلیوں کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی آئی ہے تو وہ صرف ان کی وردی جو کہ سرخ سے سبز رنگ کی ہوگئی ہے

اگر نئے پاکستان میں جہاں محترم وفاقی وزیر ریلوے جناب شیخ رشید لاہور سے کاشغر فریٹ ٹرین چلانے سمیت کئی منصوبوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں ان قلیوں کی بہتری پر بھی توجہ دیں لیں تو پاکستان ریلوے کے اس نظام میں نہ صرف بہتر آئے گی بلکہ جناب شیخ صاحب کو دعائیں بھی ملیں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں