پیر، 19 نومبر، 2018

ظلم اور تجاوزات


یار کیا مصیبت ہے،،،، کس طرح کے عجیب لوگ ہیں یہ،،،، جب دیکھو گھر کے آگے گاڑی کھڑی کردیتے ہیں،، یہ کوئی چارجڈ پارکنگ ہے؟

لگتا ہے کہ انسانیت تو ختم ہی ہو گئی لوگوں میں، اشتیاق صاحب نے اپنے گھر کے آگے کھڑی ہوئی گاڑی دیکھ کر 
بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

ارے تمھاری سمجھ نہیں آتی،، میں نے منع کیا تھا کل بھی،،، یہ کوئی کیبن لگانے کی جگہ ہے، اشتیاق صاحب  سلطان کو اپنے گھر کے کونے پر فنگر چپس کا خوانچہ لگاتے ہوئے دیکھ کر غراتے ہوئے کہا۔ 

صاحب ایک کونے میں ہی رہونگا،، آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی،، آپ مہربانی کریں گے تو میں اپنے بچوں کی روزی کما لوں گا،،،، سلطان منت سماجت کرتے ہوئے بولا۔

عجیب آدمی ہو،،، ایک سیدھی بات سمجھ نہیں اتی،،، یہ جگہ میری ملکیت ہے اور قانونی کے مطابق اس جگہ تم قبضہ نہیں کر سکتے،،، بچوں کی روزی کمانے کے اور بھی جائز ذرائع ہیں،، کسی کی جگہ قبضہ تو نہ کرو نا،،، حلال روزی کھلائو اولاد کو،،،، اشتیاق صاحب نے سلطان کو لیکچر دیتے ہوئے جواب دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے مئیر کراچی اور متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کراچی شہر سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے فوری طور پر اس کی خوبصورتی کو بحال کیا جائے۔

کراچی ایمپریس مارکیٹ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع پہلے مرحلے میں ایمپریس مارکیٹ گرد قائم ایک ہزار سے زائد ناجائز دکانوں کو مسمار کیا جائے گا،،، ٹی وی پر نیوز اینکر خبریں پڑھ رہی تھی۔

یہ کیا بکواس ہے،،، شرم آنی چاہیے اس حکومت کو،،، غریب کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا انہوں نے،،، کتنے لوگوں کا روزگار وابستہ تھا ان دکانوں سے،،،، ارے ان غریبوں کو تو جینے دو ظالموں،،، اشتیاق صاحب نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔

ہمارے معاشرے میں سلطان اور اشتیاق جیسے ہزاروں کردار موجود ہیں، 
سلطان جیسے لوگ اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم تو دلاتے ہیں مگر ان کے اخلاقی تربیت نہیں کرتے، وہ اپنے بچوں کو مذکورہ حدیث،
"رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں"

پڑھاتے تو ہیں لیکن اس پر عمل کرنا نہیں سکھاتے ہیں جس
 کی وجہ سے معاشرے میں کئی سلطان پیدا ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ رشوت دے دے کر شہر موجود کئی جگہوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، اور نتیجتاً شہر میں تجاوزات کے باعث ٹریفک جام اور رش جیسے مسائل جنم لیتے ہیں جو مشکلات بڑھانے کے ساتھ ساتھ شہر کی خوبصورتی کو بھی گہنا کر رکھ دیتے ہیں،،،، اور جب ان تمام لوگوں یا تجاوزات کے خلاف کوئی آپریشن کیا جاتا ہے تو مذکورہ بالا حضرات کرہ ارض کی مظلوم ترین مخلوق بن کر سامنے آتے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کا رونا روتے ہیں۔
دوسری جانب اشتیاق جیسے لوگ بھی ہیں جنہیں اپنے گھر کے آگے چند گھنٹوں کے لئے پارک ہونے والی گاڑی بھی برداشت نہیں ہوتی،،،، لیکن شہر کی خوبصورتی اور روانی کو متاثر کرنے والی تجاوزات کے خلاف ہونے والے ایکشن پر ان میں غم و غصّے کی لہر دوڑ جاتی ہے اور غریبوں کے لئے ہمدردی کا سیلاب ان کے دل میں امڈ آتا ہے۔

میرے نزدیک اگر ہم اور آپ اس معاشرے کو سدھارنا اور ملک و شہر کو مہذب و خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر توجہ دینے اور انہیں بہتر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔


3 تبصرے: