پیر، 5 نومبر، 2018

صدر مملکت پاکستان اور نا شکری عوام

صدر مملکت پاکستان  اور نا شکری عوام 
سال 2018 ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال کےحوالے سے تبدیلی کا سال تھا، اس سال ملک کی تیسری بڑی جماعت 
نے تمام پرانی جماعتوں کو انتخابات کے اندر پچھاڑ کر مملکت خداد کے ایوان بالا تک رسائی حاصل کرلی، تاہم یہ حالیہ 
انتخابات کے نتائج کودیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے ووٹرز نے درست ماننے سے انکار کردیا لیکن قطع نظر اسکے 
پاکستان تحریک انصاف حکومتی جماعت کی حیثیت سے ملک میں موجود ہے،
حکومت میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک پاکستان تحریک انصاف کے کئی وزراء اور اعلی عہدیداران اپنے کئی فیصلوں 
اور بیانات کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں اور یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہے، لیکن حکومتی جماعت کے سربراہ

اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے گذشتہ دنوں انتہائی شاندار فیصلوں اور بیانات سے عوام کی ایک بڑی تعداد کے 
دل موہ لئے، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف میں کئی ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں اگر انکے فیصلوں سے اور بیانات سے 
پرے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ بحثیت انسان بے حد شاندار طبیعت کے مالک ہیں اور انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت 
صدر مملکت پاکستان محترم جناب ڈاکٹر عارف علوی کی بھی ہے، ڈاکٹر عارف علوی انتہائی سادہ طبیعت کے مالک اور 
پڑھے لکھے مہذب انسان ہیں، پیشے کے لحاظ سے دانتوں کے ڈاکٹر ہیں اور ملنسار، خوش باش اور عاجز انسان ہیں، اور 
انکی حس مزاح بھی کمال ہے،
 گذشتہ کئی دنوں سے جناب ڈاکٹر عارف علوی کراچی شہر کے دورے پر ہیں اور ادارے کی جانب سے مجھے انکی کوریج 
پر معمور کیا گیا ہے، انکے صدر مملکت پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد میرا انکی کوریج کا سب سے پہلا جو 
اتفاق ہوا وہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر ہوا جہاں صدر مملکت کراچی سے دھابیجی ٹرین سروس کا افتتاح کرنے کے لئے مدعو 
تھے ماضی کی حکومتوں کو دیکھتے ہوئے میں حیران تھا کہ صدر مملکت پاکستان جس پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں 
وہاں نجی میڈیا کا کیا کام ان کو اجازت کیسے مل گئی ایسا کیسے اور کیوںکر ممکن ہوا، بہرحال ایک روزہ مرہ کے 
سیکیورٹی چیک کے بعد اس اسٹیشن پر جانے کی اجازت ملی جہاں مذکورہ پروگرام منقعد ہوا تھا،

پنڈال میں داخل ہونے کے بعد اندازہ ہو کہ انتہائی سادہ سی تقریب تھی اور جس طرح کا انتظام تھا شک گزرا کہ صدر مملکت 
شاید ہی یہاں تشریف لائیں، اور میں اپنی تیاری کرنے میں لگ گیا لیکن کچھ دیر بعد دیکھا تو واقعی جناب عارف علوی وہاں 
تشریف لا چکے تھے، مذکورہ بالا پروگرام کی کوریج کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہو کہ یہاں تو معاملات میری سوچ کے 
برعکس ہیں، دوران کوریج مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کوِئی عام سا پروگرام ہیں اور گمان ہونے لگتا کہ میں ان 
کے صدر مملکت بننے سے پہلے کے کسی پروگرام کی کوریج کر رہا ہوں،
اس پروگرام کے دوران جب ڈاکٹر صاحب تقریر کرنے آئے تو انکی حس مزاح کا اندازہ ہوا پنڈال میں بیٹھے تقریبا تمام لوگ 
ان کی گفتگو سے محظوظ ہورہے تھے، انہوں نے دوران تقریر اپنے ماضی کے وہ انتہائی معمولی قصے بھی سامعین کو 
سنائے جنہیں شاید اکثر لوگ اپنے اسٹیٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے سنانے سے گریز کرتے ہیں،

صدر مملکت کے اعزاز میں ایک اور تقریب جو کہ کراچی یونیورسٹی میں رکھی گئی تھی جب اس میں صدر پاکستان پہنچے 
اور انہوں نے اپنی تقریر شروع کی اسے دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ جناب صدر ایک قابل انسان ہیں دوران تقریر وہ 
دیگر صدور کی طرح اپنی ڈائس پر موجود پرچہ (جو کہ نہیں تھا) کو دیکھ کر تقریر کرنے کے بجائے سامعین کی آنکھوں 
میں آنکھیں ڈالے بات کرتے رہے تھے، اور باتوں باتوں میں انہوں نے انتہائی ہلکے اور پرمزاح انداز میں ٹیلی ویژن کے 
مارننگ شوز میں کام کرنے والے جادوگروں کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا اور کہ مارننگ شوز میں بالوں کا تیل 
بیچنے والے اور والیاں دعوا کرتے ہیں کہ اگر ان کے تیارکردہ تیل کو ہتھیلی پر لگائے تو اس پر بھی بال اگ جاتے ہیں اور 
یہ بات کہتے ہو صدر صاحب  بھی ہنسی پر قابو نا رکھ سکے اور سامعین سے ساتھ ہنس پڑے، 
اس قسم کے دو تین اور واقعات بھی ہیں تاہم صدر پاکستان ایک بے حد زبردست شخصیت ہیں جن سے ملاقات کے دوران آپ 
کو یہ احساس بھی نہ ہوگا کہ آپ پاکستان کی اعلی ترین شخصیت سے بات کر رہے ہیں،

ایرانی صدر احمدی نجاد کی سڑک پر نماز پڑھتے ہوئے تصاویر، کینیڈا کے وزیر اعظم کی عوام سے گھلنے ملنے کی تصاویر،
،امریکی الیکشن میں صدارتی امیدواروں کے ناچتے ہوئے ویڈیو کلپ اکثر و بیشتر لوگوں کی طرف سےسوشل میڈیا پر شئیر 
ہوتے ہیں اور سراہے جاتے ہیں اور ان کی عوام سے ملنساری کی مثالیں دی جاتیں ہیں، لیکن جب آپ کے اپنے ملک کا صدر 
آپ سے اسی طرح گھلنے ملنے کی کوشش کرے اور اس کے چٹکلے آپ کو ہنسادیں تو اکثر لوگوں کو اس پر اعتراض ہوتا 
ہے، مجھے کافی سارے پڑھے لکھے لوگوں کی اس حوالے سے کافی بحث ہوتے نظر آئی زیادہ تر کا کہنا تھا کہ 
صدر مملکت کو اپنے پروٹوکول کا خیال رکھنا چاہئیے اور اس قسم کی باتوں سے گریز کرنا چاہیئے،

جبکہ میری نظر میں صدر پاکستان کو بالکل ایسا ہی ہونا چاہیئے بلکہ اس بھی زیادہ نرم اور خوش مزاج ہونا چاہیئے تا کہ 
لوگ اپنے صدر کے قریب جاتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں،


لیکن مشکل یہ ہے کہ اگر صدرممنون حسین جیسے ہوں تو بھی لوگوں کو مسائل ہیں کہ یہ تو شوپیس ہیں، کچھ بولتے ہی 
نہیں بلکہ یہ تو نظر ہی نہیں آتے اور اگر صدر ڈاکٹر عارف علوی جیسے خوش مزاج ہوں تو بھی اعتراض، میرے نزدیک 
نتیجہ یہ ہے کہ ہماری عوام کی اکثریت نا شکری ہوگئی ہے۔           

3 تبصرے:

  1. بہت اعلی۔۔ یار بہت زبردست لکھا ہے آپ نے
    ماشااللہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. جوابات
    1. بھائی جان بہت بہت شکریہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے آپ کی ہمت افزائی کا بہت شکریہ

      حذف کریں